14 دسمبر 2011 - 20:30

امریکی ایوان نمائندگان نے کل ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بل منظور کیا جس کی رو سے ایران کے تیل اور سنٹرل بینک پر بھی پابندی لگا دی گئي ہے۔

ابنا: امریکی صدر باراک اوباما کے دستخطوں کے بعد اس پر عمدرآمد کیا جاۓ گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے تیل پر پابندی کے منفی اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ اس کے بہت سے اتحادیوں اور اقتصادی شرکاء کے اقتصاد پر بھی مرتب ہوں گے۔

امریکی وزارت خزانہ کے حکام اس سے پہلے تیل کی عالمی منڈی پر ایران کے سنٹرل بینک پر پابندی کے منفی اثرات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرچکے تھے اس لۓ اس بل کے مسودہ میں ترمیم کر کے تیل کی قیمت پر مرتب ہونے والے ان منفی اثرات کو کم کرنےکی کوشش کی گئي ہے۔

امریکہ نے کئی برس پہلے بھی ایران کی توانائی میں بیس ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا تھا اور انہی پابندیوں کی وجہ سے یورپی یونین نے تیل کی بعض ایرانی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کی سطح کم کردی تھی ۔

لیکن اب ایران کے تیل کی خریداری اور سنٹرل بینک پر پابندی کے مسئلے پر یورپی ممالک کی سیاسی شخصیات اور ذرائع ابلاغ میں توانائي کے اس شعبے پر پابندیوں کے منفی اثرات کے سلسلے میں سنجیدہ بحث شروع ہوچکی ہے۔

عام طور پر مبصرین فائدے اور نقصان کے تناظر میں توانائي کے شعبے میں ایران مخالف پابندیوں کے منفی نتائج کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ اس مسئلے کا زیادہ اہم پہلو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران سے تیل خریدنے اور ایران کے سنٹرل بینک پر پابندی پر مبنی امریکہ کا اقدام عالمی تشویش کا باعث بن چکا ہے اور اسی لۓ روس اور چین نے امریکہ کے اس فیصلے کی واضح طور پر مخالفت کا اعلان کرتے ہوۓ کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ امریکہ کے شدید دباؤ کے باوجود اٹلی ، اسپین اور یونان جیسے بہت سے یورپی ممالک نے کھل کر ان پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔

اسی مخالفت کے پیش نظر امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اس بل کو اس انداز میں تدوین کیا گیا ہے کہ اگر اس کے منفی نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں تو اسے منسوخ کیا جا سکے ۔ موجودہ پیچیدہ اور دشوار صورتحال میں امریکہ ایران کے تیل اور گیس کے شعبے میں پابندیوں پر عملدرآمد کرانے کے سلسلے میں حرف آخر کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بہت زیادہ دباؤ کے باوجود بہت سی بین الاقوامی کمپنیاں ان پابندیوں پر عمل نہ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین کاکہنا ہے کہ ایران کے توانائی کے شعبے پر پابندی کا حربہ ایک بے سود حربہ ہے اور اس نۓ کھیل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہی شکست و ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔.......

/169